21 اگست، 2026، 8:45 PM

بغداد، قالیباف کی تجارتی و کاروباری شخصیات سے ملاقات، ملکی کرنسی میں تجارت پر زور

بغداد، قالیباف کی تجارتی و کاروباری شخصیات سے ملاقات، ملکی کرنسی میں تجارت پر زور

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایران اور عراق کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کے لیے واضح روڈ میپ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو باہمی تجارت میں ڈالر کے بجائے اپنی قومی کرنسیوں کا استعمال بڑھانا چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بغداد میں ایرانی سفارتخانے میں ایرانی اور عراقی اقتصادی شعبوں سے وابستہ نمائندوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو متعدد ادارہ جاتی مسائل کا سامنا ہے، جنہیں ترجیحی بنیادوں پر عملی انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں درپیش مسائل کے جائزے اور حل کے لیے ایران کی چیمبر آف کامرس کے ساتھ تہران میں ایک فالو اَپ اجلاس منعقد کریں گے۔

قالیباف نے مزید کہا کہ ایران کے سرحدی شہروں میں موجود باصلاحیت، فعال اور ماہر افرادی قوت سے عراق بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ایک جامع اور مؤثر اقتصادی و تجارتی روڈ میپ ضروری ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ایران پر جنگ طلب ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے کبھی جنگ کی کوشش نہیں کی، تاہم اسلامی امت کے اصول کے تحت کسی کو بھی اپنی عزت و وقار پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

قالیباف نے کہا کہ مسلمان اپنی عزت و وقار کے دفاع کے لیے مال اور جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جنگ کا تجربہ رکھنے والوں سے زیادہ امن کی قدر کوئی نہیں جانتا، تاہم سفارت کاری اسی وقت مؤثر ہوتی ہے اور آگے بڑھتی ہے جب اس کے پیچھے جنگ سے نمٹنے کی آمادگی بھی موجود ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق تقریباً نصف صدی سے ایسے حالات سے گزر رہے ہیں جنہیں نہ مکمل جنگ کہا جا سکتا ہے اور نہ مکمل امن، جبکہ خطے کے انسانی، قدرتی اور جغرافیائی وسائل پر بیرونی طاقتوں کی لالچ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ ہے۔

قالیباف نے آبنائے ہرمز، خلیج فارس، باب المندب اور نہر سویز کی جغرافیائی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی بحری تجارت کا بڑا حصہ مسلم ممالک کے علاقوں سے گزرتا ہے، لیکن بیرونی طاقتیں خطے کے وسائل اور خام مال پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

انہوں نے ایران اور عراق کے درمیان باہمی تجارت کو قومی کرنسیوں میں انجام دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکی بالادستی کا دور گزر چکا ہے اور دونوں ممالک کو ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔

قالیباف نے اقتصادی جنگ کو بھی موجودہ محاذ کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل یہ سمجھ چکے ہیں کہ ایران اور عراق کو فوجی طاقت کے ذریعے شکست دینا آسان نہیں، اسی لیے اب اقتصادی اور ذہنی جنگ کے میدان کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اقتصادی شعبے سے وابستہ نمائندوں سے کہا کہ وہ اس میدان کے سپاہی اور کمانڈر ہیں، کیونکہ صرف فوجی طاقت کسی ملک کی بقا کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ اگر عوام مشکلات کا شکار ہوں، مالی گردش موجود نہ ہو، اقتصادی ترقی رک جائے اور قومی پیداوار کمزور ہو تو ملک کے لیے مشکلات کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

قالیباف نے دفاع اور معیشت کو ایک جسم کے دو بازو قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے سیکورٹی ضروری ہے، جبکہ اگر سیکورٹی کو معیشت کا سہارا حاصل نہ ہو تو وہ بھی دیرپا نہیں رہ سکتی۔

انہوں نے ایران اور عراق سے بحیرۂ روم تک پھیلے جغرافیائی راستے کو خطے کی جغرافیائی سیاسی طاقت اور آزادی کا اہم جزو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ راستہ مزاحمت کے ممالک سے گزرتا ہے اور خطے کی طاقت کے اہم عناصر میں شمار ہوتا ہے۔

اجلاس کے دوران ایرانی اور عراقی نجی شعبے کے آٹھ نمائندوں نے بینکاری، قانونی اور کسٹمز سے متعلق مسائل پیش کیے۔ انہوں نے ایرانی سرحدی شہروں بالخصوص مشترکہ صنعتی زونز کے قیام، باہمی تجارت میں ڈالر کے بجائے عراقی دینار اور ایرانی تومان کے استعمال، جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرنو میں نجی شعبے کی مشترکہ شرکت اور سرحد پار تجارتی روابط کے لیے حکومتوں کی مزید حمایت کا مطالبہ کیا۔

News ID 1940797

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha